نئی دہلی،11؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) منگل کو راجیہ سبھا میں کانگریس کے قدآورلیڈر غلام نبی آزاد کے کارناموں کا ذکرکرکے جذباتی ہوکر آنکھوں سے آنسو بہانے والے وزیراعظم نریندرمودی کا چہارشنبہ کے روز لوک سبھا میں ایک الگ اور جارحانہ رخ نظرآیا۔
تقریر کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس کے ممبر پارلیمان ادھیر رنجن چودھری سے پوچھا،”داداٹھیک ہو“ لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے تیورسخت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ادھیر رنجن جی، اب زیادہ ہو رہا ہے۔ 93منٹ کی تقریر میں 60منٹ کسانوں،ان کی نقل و حرکت،زرعی شعبے میں اصلاحات پربولے،باقی اوقات کانگریس پرالزامات کی بارش برساتے رہے۔ اس دوران 10بار ہنگامہ ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو تین زرعی قوانین کو”سب کے مفاد میں، سب کی خوشی میں“کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرانی سوچ سے کسانوں اور کاشتکاری کا کوئی بھلا نہیں ہوگا اور ناکامی کے خوف سے تبدیلی کو روکا نہیں جاسکتا ہے۔
مسٹر مودی نے یہاں لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر14گھنٹوں سے زیادہ عرصہ سے چلے بحث کا جواب دیتے ہوئے زرعی اصلاحات کے قوانین کا زبردست طریقے سے دفاع کیا۔ اپوزیشن کے زبردست خلل ڈالنے کی کوشش اور مخالفت کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن پر بھی تیکھے حملے کئے اور کہا کہ حکومت تحریک چلارہے سبھی کسان بھائیوں کی عزت کرتی ہے اور ہمیشہ کرے گے۔ حکومت کے سینئر لیڈر مسلسل باعزت طریقے سے بات چیت کررہے ہیں۔کسانوں کے خدشات کو ختم کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کررہے ہیں۔ اگر کوئی کمی ہوگی اور اس سے کسانوں کو نقصان ہورہا ہوگا تو حکومت اسے تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ قوانین کو تبدیل کرنے میں کیا جاتا ہے۔ یہ ملک اس کے شہریوں کا ملک ہے - اگر لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تو حکومت اسے تبدیل کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کے”کلر“پر ایوان میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بہت بحث ہوئی۔ اچھا ہوتا اگر”مشمولات“اور”ارادے“پر بات ہوتی تو تحریک چلارہے کسانوں کو سمت ملتی۔ احتجاج کرنے والوں کے درمیان جو غلط فہمی اور افواہیں پھیلائی گئیں ہیں اس کا جواب مل پاتا-